دفع 50 ألفا ولم يستعد حسابه    بلاغات الحماية الأسرية تظهر مشكلات نفسية وسلوكية وتربوية    معدن سام في الخبز والكروسان    عصير الكرز يحسن النوم    صيدلية حية تحت الجلد    مزارع القصيم الريفية.. إقبال متزايد يعزز النمو السياحي والاقتصادي أيام العيد    بعد البيعة.. عصر جديد في ظل ولي العهد    العدوان الإسرائيلي على لبنان أوقع 1142 قتيلاً و3315 جريحاً    ديموقراطية استخدام السلاح    الصف الواحد يبدأ من هاتفك الجوال    الأخضر (B) يخسر ودية السودان    حسام حسن: لم أتوقع الرباعية    السنغال: قرار كاف «كان معداً سلفاً»    غاب الجسد وبقي الأثر    وزير الصحة يثمن جهود الهلال الأحمر    مطر الخير يعم المملكة    أرقام جديدة تكشف.. تحول العمل التطوعي بالمملكة إلى قوة مجتمعية    رحلة في أفياء الشعر والشعراء    العيد ومفهوم السعادة في الماضي والحاضر    "الثقافة" تطلق الزمالات السعودية البريطانية للأبحاث الثقافية    إليوت الصغير في «الأرض الموبوءة»    خطيب المسجد الحرام: احذروا آفات اللسان    إمام المسجد النبوي: لا تبطلوا الأعمال الصالحة بالمعاصي    أمن وأمان وعقيدة واطمئنان    الذهب يرتفع 3 % وسط ترقب المستثمرين لتطورات التوتر في الشرق الأوسط    "البنية التحتية" يصدر "أداء الجهات الخدمية" لفبراير    "سدن" توقّع مع مستشفى الملك خالد الجامعي    نجاح استخراج «سماعة جوال» من معدة رجل بمجمع الدكتور سليمان الحبيب الطبي بالعليا    المنتخب السعودي (B) يخسر لقاء السودان الودي في معسكر جدة    «ثار» تسجل أعلى كمية ب 27,4 ملم.. 24 محطة ترصد هطول أمطار في 6 مناطق    ديوانية خوجه تقيم حفل معايدة    جامعة الإمام عبدالرحمن تعايد منسوبيها    "النقل" تتيح التعاقد لنقل البضائع للغير مؤقتاً    وزارة الدفاع ونظيرتها الأوكرانية توقِّعان مذكرة ترتيبات في مجال المشتريات الدفاعية    رئيس جمهورية أوكرانيا يغادر جدة    زراعة 159 مليون شجرة ضمن مبادرة السعودية الخضراء.. السعودية تؤهل مليون هكتار من الأراضي المتدهورة    شارك في جلسة «التهديدات العابرة للحدود والسيادة».. وزير الخارجية ونظيره الهندي يناقشان المستجدات الإقليمية والدولية    الاتحاد يعين نور والمنتشري مستشارين لشؤون كرة القدم    عبر المنصات الرقمية في رمضان.. 366 مليون مشاهدة لمحتوى الشؤون الدينية بالحرمين    الهلال يطالب «الآسيوي» بإشراك «نونيز» أمام السد    1.7 تريليون أصولاً احتياطية للمركزي السعودي    طهران مستمرة في استهداف المدنيين وتهديد الاستقرار.. السعودية ودول الخليج.. مساعٍ دبلوماسية لاحتواء الأزمة    توسع محتمل للصراع.. غارات إسرائيلية تستهدف منشآت نووية إيرانية    تصاعد الانتهاكات الإسرائيلية في القدس والضفة وغزة    نائب أمير منطقة تبوك يعزي وكيل إمارة المنطقة في وفاة شقيقته    أزمة المفكر الفرد في عالم مراكز التفكير    العويس يعود للصقور        قمة أولوية ميامي تختتم أعمالها بجلسات حول إستراتيجيات الاستثمار وسباق المعادن الحرجة    انطلاق مهرجان الشعوب في الجامعة الإسلامية بالمدينة    الدفاعات السعودية تعترض 3 صواريخ وسقوط 4 في مياه الخليج ومناطق غير مأهولة    642 حالة ضبط جمركي خلال أسبوع    الاحتفاء بيوم مبادرة السعودية الخضراء    نائب أمير نجران يلتقي رؤساء المحاكم بالمنطقة    رئاسة الشؤون الدينية تصدر جدول البرنامج العلمي الدائم بالمسجد الحرام لشهر شوال 1447ه    أمير نجران يلتقي رئيس المحكمة الجزائية وعددًا من القضاة بالمنطقة    بلدية الظهران تحتفي بعيد الفطر بفعاليات ترفيهية مميزة    المعيقلي: التقوى طريق النجاة والفوز الحقيقي    







شكرا على الإبلاغ!
سيتم حجب هذه الصورة تلقائيا عندما يتم الإبلاغ عنها من طرف عدة أشخاص.



حج کا ارتقائي سفر تصويروں کے آئينہ ميں
نشر في عكاظ يوم 04 - 09 - 2017

اللہ رب العزت کي جانب سے مسلمانوں پر حج فرض کيے جانے کے بعد سے عازمين حج کے قافلے متعدد راستے اختيار کرتے رہے ہيں۔ ان سب کا رخ اللہ کے پاک اور بزرگي والے گهر بيت العتيق کي جانب ہوتا تها اور ان کے دل اسلام کے پانچويں رکن کو ادا کرنے کے ليے بے تاب ہوتے تهے۔
وقت کے ساته عازمين حج کے راستوں کے پهيلاؤ سے لوگوں کو اپني تجارت ميں نفع نظر آنے لگا اور ساته ہي ثقافتوں اور اہم معلومات بهي منتقل ہوئيں۔
گزشتہ صديوں کے دوران ان راستوں پر نقل و حرکت گنجان رہتي تهي۔ ان راستوں کا استعمال حج کي غرض تک محدود نہ تها بلکہ مختلف سواريوں کے حامل افراد پورے سال ان راستوں پر آتے جاتے نظر آتے تهے۔
مذکورہ متعدد راستوں ميں نماياں طور پر مشہور ہونے والے راستوں ميں عراقي ، شامي ، مصري ، يمني اور عُماني حاجيوں کے راستے شامل ہيں۔
مسلمان خلفاء اور سلاطين نے حج کے راستوں کو بهرپور توجہ دي۔ اس کا ثبوت اميرِ حج کے منصب کا نمودار ہونا ہے جس کے ذمے حجاج کي ديکه بهال، راستوں پر پڑاؤ کے مقامات قائم کرنا اور پڑاؤ کے مختلف مقامات کے درميان فاصلوں کا تعين کرنا شامل ہے۔
امير المومنين حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ کے دور ميں مدينہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درميان راستے پر خصوصي توجہ دي گئي۔ اس دوران سرائے اور آرام گاہيں بنائي گئي تا کہ حجاج اور پيدل چلنے والے اپنے سفر کے دوران يہاں 8هہر کر تازم دم ہو سکيں۔
تاريخي ذرائع نے 7 مرکزي راستوں کو محفوظ رکها جو اسلامي رياست کے مختلف علاقوں سے مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ آتے ہيں۔ يہ راستے درج ذيل ہيں :
1 ۔ کوفہ / مکہ مکرمہ راستہ: يہ اسلامي دور ميں حج اور تجارت کے اہم ترين راستوں ميں شمار ہوتا ہے۔ يہ راستہ خليفہ ہارون الرشيد کي زوجہ محترمہ زبيدہ سے منسوب ہو کر «راہِ زبيدہ» کے نام سے مشہور ہوا۔ زبيدہ نے اس کے طرزِ تعمير ميں حصہ ليا تها اور اس کا نام زمانوں کے گزرنے کے بعد بهي زندہ و جاويد رہا۔
2 ۔ بصرہ / مکہ راستہ : يہ اہميت کے لحاظ سے دوسرے نمبر شمار کيا جاتا ہے جو بصرہ شہر سے شروع ہوتا ہے پهر جزيرہ عرب کے شمال مشرق سے گزرتا ہوا وادي باطن کے راستے مختلف صحراؤں کو چيرتا ہوا القصيم پہنچتا ہے جہاں مي8هے پاني ، زرخيز زمينوں اور چشموں کي بہتات ہے۔ يہاں سے يہ راستہ کوفہ - مکہ راستے کے متوازي چلتا ہے يہاں تک کہ ام خرمان کے پڑاؤ «اوطاس» کے پاس دونوں مل جاتے ہيں۔ ان کا ملاپ معدن النقرہ کے علاقے ميں ہوتا ہے جہاں سے ايک راستہ نکل کر مدينہ منورہ کي جانب جاتا ہے۔
3 ۔ مصري حجاج کا راستہ : اس راستے کو مصري حجاج کے علاو مراکش ، اندلس اور افريقا کے عازمين حج مکہ مکرمہ پہنچنے کے واسطے استعمال کرتے ہيں۔ يہ جزيرہ نما سيناء کا رخ کرتے ہيں تا کہ «العقبہ» پہنچا جا سکے جو راستے کا پہلا پڑاؤ ہے۔ بعد ازاں عازمين حج حقل پهر الشرف اور پهر مدين سے گزرتے ہيں۔
4 ۔ شامي حجاج کا راستہ : يہ بلادِ شام کو مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ ميں مقامات مقدسہ سے ملاتا ہے۔ يہ راستہ تبوک نامي قصبے سے بهي گزرتا ہے اور اسي نسبت سے التبوکيہ کے نام سے جانا گيا۔
5 ۔ يمني حجاج کے راستے : يہ حج کے وہ راستے ہيں جو پرانے زمانوں سے ہي يمن کو حجاز سے ملاتے رہے۔ لہذا يمن کے حجاج کے کئي راستے سامنے آئے اور ان کے رو8س تبديل ہوتے رہے۔ اسي طرح يہ راستے يمن کے کئي اہم شہروں سے گزرتے ہيں جہاں سے يمني عازمين حج کے گروہ مکہ کا رخ کرتے تهے۔ ان شہروں ميں عدن ، تعز ، صنعاء ، زبيد اور صعدہ شامل ہيں۔ يہ راستے بعض مقامات پر ايک دوسرے کے ساته ملتے بهي ہيں۔
۔ عُماني حجاج کے دو راستے : ان ميں ايک راستہ عمان سے يبرين کي سمت جاتا ہے ، وہاں سے بحرين اور پهر اليمامہ سے ہوتا ہوا ضريہ پہنچتا ہے۔
عماني حجاج کے ليے ايک دوسرا راستہ بهي ہے جو فرق کي سمت جا کر پهر عوکلان ، ساحلِ ہباہ اور پهر شحر کے مقام پر پہنچتا ہے۔ يہاں سے پهر حاجيوں کے قافلے مکہ مکرمہ جانے والے ايک مرکزي يمني راستے کو اپنا ليتے ہيں۔ بحر احمر کے متوازي راستہ مخلاف، الحردہ، عثر، مرسي ضنکان، السرين ہوتا ہوا الشعبيہ پہنچتا ہے۔ اس کے بعد سعودي عرب کے ساحلي شہر جدہ اور پهر مکہ جاتا ہے۔
7 ۔ بحرين - يمامہ - مکہ مکرمہ حج راستہ : يہ جزيرہ عرب کے وسطي حصوں کو عبور کرتے ہوئے اس کے متعدد قصبوں اور علاقوں سے گزرتا ہے اور حجاز کو خلافت عباسيہ کے مرکز عراق سے ملاتا ہے۔ اس راستے کے عازمينِ حج کو اسلامي رياست کي ديکه بهال نصيب ہوئي بالخصوص اہم خدمات کي فراہمي اور ديگر راستوں کے مقابلے ميں حجاج کو حاصل تحفظ کے حوالے سے ان پر خصوصي توجہ مرکوز کي گئي۔


انقر هنا لقراءة الخبر من مصدره.