وكيل وزارة الداخلية يرأس اجتماع وكلاء إمارات المناطق ال(60)    2026.. مرحلة اقتصادية سعودية أكثر رسوخاً واستدامة    مواجهة الجفاف.. دروس مستفادة من دافوس    الإنسان هو الوطن    أضخم عملية تطهير عرقي في الضفة    التقنيات العسكرية الحديثة وتأثيرها على ميزان القوى    المملكة واللياقة السياسية    الصين تحظر 73 شخصًا من ممارسة أي أنشطة متعلقة بكرة القدم مدى الحياة    كأس آسيا تحت 23 عاماً: نجوم خطفوا الأضواء    الاحتراف في المظهر أم الجوهر.. أزمة إدارة    الأمن العام يتيح خدمات البنادق الهوائية إلكترونيًا عبر «أبشر»    القبض على فلسطيني في جدة لترويجه "الحشيش"    د. محمد الهدلق.. الحضور الأدبي    الراكة.. مدينة تحت الرمل    الخلاف النقدي بين الإبداع والقطيعة    هدية الشتاء لجسمك    الشباب يتغلّب على الحزم برباعية في دوري روشن للمحترفين    الفتح يقتنص تعادلًا قاتلًا من الاتحاد في دوري روشن للمحترفين    نيفيز ينفجر غضبًا عقب تعادل الهلال مع القادسية    إنطلاق الدورة العلمية الثانية لأئمة الحرمين الشريفين تزامنًا مع الخطة التشغيلية لشهر رمضان ١٤٤٧ه    "التعليم" رمضان فرصة لتعزيز معاني الانضباط في المدارس و لا تحويل للدراسة عن بعد في رمضان    نائب أمير تبوك يستقبل قائد حرس الحدود بالمنطقة    «التعليم» تمنع منسوبيها من استخدام صفاتهم الوظيفية في المنصات الرقمية وتُلغي مسمّى «المتحدث الرسمي» في إدارات التعليم    "هداية" تحتفي بإنجازاتها لعام 2025 وتوقّع شراكات مجتمعية    جمعية "نبأ" تُكرم "73" حافظة للقرآن الكريم خلال عام 2025 في خميس مشيط    الجدعان يعلن بدء تنفيذ "الإستراتيجية الوطنية للتخصيص"    وزير البيئة الأوزبكي يزور المركز الوطني للأرصاد ويطّلع على تجارب المملكة في مجالات الأرصاد    السعودية للكهرباء تفوز بجائزة العمل 2025 في مسار "بيئة العمل المميزة" للمنشآت الكبيرة والعملاقة    الجامعة الإسلامية تفتح آفاقًا جديدة لتنمية الوقف الزراعي    برعاية أمير المنطقة الشرقية.. انطلاق النسخة الثالثة من مهرجان البشت الحساوي بالأحساء    "تعليم جازان" يحصد 22 جائزة في معرض إبداع للعلوم والهندسة    الوعي والإدراك    استعراض تقرير "الاتصالات" أمام نائب أمير نجران    الشخصية المثمرة    سعود بن بندر يشدد على العمل التكاملي بين الجمعيات    نفتقد قلم الإبينفرين    «صحي المجيدية» يطلق «نحياها بصحة»    انطلاق هاكاثون «علوم الطوارئ » في فبراير المقبل    تكريم الفائزين بجائزة التميز العقاري    84 طالباً يفوزون بجوائز الأولمبياد الوطني    الأفلام السعودية إلى العالم عبر«لا فابريك-المصنع»    «الفيصل»: 50 عاماً من صناعة الوعي الثقافي    زيلينسكي يبدي استعداده للقاء بوتين.. الأراضي وزابوروجيا تعرقلان مسار السلام    لا تزال قيد الدراسة.. 3 خيارات للجيش الإسرائيلي لإخضاع حماس    بحثا مستقبل القوات الروسية بسوريا.. بوتين للشرع: وحدة سوريا أولوية ومستعدون لدعم دمشق    دوريات الأفواج الأمنية بمنطقة جازان تُحبط تهريب (268) كيلو جرامًا من نبات القات المخدر    في الجولة الختامية لمرحلة الدوري في يوروبا ليغ.. 11 مقعداً تشعل مباريات حسم التأهل لدور ال 16    ليست مجرد كرة قدم    الخريف يدشن خطوط إنتاج في جدة.. السعودية مركز إقليمي لصناعات الدواء والغذاء    ما هو مضيق هرمز ولماذا هو مهم جداً للنفط؟    سمو وزير الدفاع يلتقي وزير الدفاع بدولة الكويت    وافق على نظام حقوق المؤلف.. مجلس الوزراء: دعم «مجلس السلام» لتحقيق الأمن والاستقرار بغزة    المبرور    إنفاذاً لتوجيهات خادم الحرمين وولي العهد.. وصول ثلاثة توائم ملتصقة إلى الرياض    7 أطعمة صحية تدمر جودة النوم ليلاً    نحن شعب طويق    متقاعدو قوز الجعافرة ينظّمون أمسية ثقافية ورياضية على كورنيش جازان    بعد الرحيل يبقى الأثر!!    







شكرا على الإبلاغ!
سيتم حجب هذه الصورة تلقائيا عندما يتم الإبلاغ عنها من طرف عدة أشخاص.



حج کرنے والے اللہ کے مہمان ہيں
نشر في عكاظ يوم 29 - 08 - 2017


فضل الرحيم اشرفي
حديثِ مبارکہ ہے:'' جس کے پاس سفر ِحج کا ضروري سامان ہو اور اس کو سواري ميسر ہو جو اسے بيت اللہ تک پہنچا سکے اور پهر وہ حج نہ کرے تو کوئي فرق نہيں کہ وہ يہودي ہو کر مرے يا نصراني ہو کر ، حج کي حقيقت يہ ہے کہ حضرت ابراہيمؑ کي طرح اللہ کي دعوت پر لبيک کہنا اور اس عظيم الشان قرباني کي روح کو زندہ کرنا، ابراہيم ؑ واسماعيل ؑ جيسي برگزيدہ ہستيوں کي پيروي کرتے ہوئے اللہ تعاليٰ کے حکم کے سامنے تسليم ورضا، فرمانبرداري اور اطاعت کے ساته اپني گردن جهکا دينا اور اس بندگي کے طريقے کواسي طرح بجالانا جس طرح وہ ہزاروں برس قبل بجالائے اور خدائي نوازشوں اور بخششوں سے مالا مال ہوئے، يہي ملتِ ابراہيمي اور حقيقي اسلام ہے ۔يہي وہ روح اور باطني احساس ہے جسے حاجي حضرات ان برگزيدہ ہستيوں کے مقدس اعمال کو اپنے جسم پر سجا کر ظاہر کرتے ہيں۔
اسي ابتدائي دور کي طرح بغير سلے ہوئے کپڑے پہنتے ہيں، اپنے بدن اور سر کے بال منڈواتے ہيں نہ ک8واتے ہيں، نہ خوشبو لگاتے ہيں نہ رنگين کپڑے پہنتے ہيں‘ نہ سر ڈهانپتے ہيں۔ جيسا کہ صحيح مسلم ميں ہے کہ حضرت ابراہيم ؑ نے بيت اللہ ميں حاضر ہوکر پکارا: ترجمہ:''ميں حاضر ہوں، اے اللہ ميں حاضر ہوں، ميں حاضر ہوں۔ تيرا کوئي شريک نہيں۔ سب خوبياں اور سب نعمتيں تيري ہي ہيں اور سلطنت تيري ہے، تيرا کوئي شريک نہيں۔‘‘ ان تمام حاجيوں کي زبانوں پر وہي تين چار ہزار سال پہلے کے کلمات جاري ہوجاتے ہيں۔ وہ توحيد کي صدا ان تمام مقامات اور بلند گها8يوں ميں بلند کرتے ہيں جہاں ان دونوں ہستيوں کے نقشِ قدم زمين پر پڑے۔ پهر اسماعيل عليہ السلام کي والدہ محترمہ ہاجرہؑ نے پاني کي تلاش ميں صفاو مروہ کے درميان چکر لگائے۔
آج حاجي وہاں سعي کرتے ہيں، چلتے ہيں اورمخصوص جگہ ميں دوڑتے ہيں، دعا کرتے ہيں اورگناہوں کي بخشش چاہتے ہيں۔ عرفات کے بڑے ميدان ميں جمع ہوکر اپني گزشتہ عمر کے گناہوں اور کوتاہيوں کي معافي چاہتے ہيں‘ خدا کے حضور گڑگڑاتے ہوئے روتے ہيں، اپنے قصور معاف کرواتے ہيں، اور آئندہ زندگي ميں اللہ کي اطاعت وفرمانبرداري کا عہد کرتے ہيں‘ اسي وقوف عرفات کو حج کا بنيادي رکن کہتے ہيں۔ يہ احساس کہ يہي وہ مقام ہے جہاں ابراہيم ؑ سے لے کر محمد رسول اللہ ؐ تک بہت سے انبياء اسي حالت اور اسي صورت ميں اس جگہ پہ کهڑے ہوئے تهے۔ ايسا روحاني منظر، ايسا کيف، ايسا اثر، ايسا گداز، ايسي تاثير پيدا کرتا ہے جس کي م8هاس روح اور جسم کي تار تار اور نس نس ميں رچ بس جاتي ہے۔ پهر حاجي قرباني کرتے ہيں۔
ارشاد نبويؐ کے مطابق:'' اپنے باپ ابراہيمؑ کي سنت پر عمل کرتے ہيں۔ ‘‘ اور پهر يہ کہتے ہيں: '' ميں نے موحد بن کر ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کي طرف منہ کيا جس نے آسمانوں اور زمين کو پيدا کيا۔ ميں شرک کرنے والوں ميں سے نہيں۔‘‘ (سورۃ الانعام) پهر حاجي يہ اقرار کرتا ہے: ''ميري نماز اور ميري قرباني اور ميرا جينا‘ ميرا مرنا سب اللہ کے ليے ہے جو تمام دنيا کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئي شريک نہيں اور يہي حکم مجهے ہوا ہے، اور ميں سب سے پہلے فرمانبرداري کا اقرار کرتا ہوں۔‘‘ (سورۃ الانعام ) حج بيت اللہ کي ان تمام کيفيات کو سمي8 کرواپس آنے والوں کے ساته يقينا ارشاد نبويؐ کے مطابق ايسا ہوتا ہے گويا ابهي جنم ليا۔
اللہ تعاليٰ ہميں حج بيت اللہ کرنے کي سعادت اور پهراس کي برکات سے مستفيض فرمائے، آمين۔ فرض حج نہ کرنے والے کے ليے لمحۂ فکريہ حضرت علي کرم اللہ وجہہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمايا:'' جس کے پاس سفر ِحج کا ضروري سامان ہو اور اس کو سواري ميسر ہو جو اسے بيت اللہ تک پہنچا سکے اور پهر وہ حج نہ کرے تو کوئي فرق نہيں کہ وہ يہودي ہو کر مرے يا نصراني ہو کر۔‘‘اور يہ اس ليے کہ اللہ تعاليٰ کا ارشاد ہے کہ ''اللہ کے ليے بيت اللہ کا حج فرض ہے، ان لوگوں پر جو اس تک جانے کي استطاعت رکهتے ہوں۔‘‘ (رواہ الترمذي) حج کي فرضيت کا حکم رائج قول کے مطابق 9ه ميں آيا اور اگلے سال 10 ه ميں اپنے وصال سے صرف تين ماہ قبل رسول اللہ ؐنے صحابہ کرامؓ کي بہت بڑي جماعت کے ساته حج فرمايا جو ''حجۃ الوداع‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور اس حجۃ الوداع ميں خاص عرفات کے ميدان ميں آپ پر يہ آيت نازل ہوئي:'' آج ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين کو مکمل کر ديا۔‘‘(المائدہ) اس آيت ميں تکميلِ دين کے ساته ساته ايک لطيف اشارہ ہے کہ حج اسلام کا تکميلي رکن ہے۔
اگر بندے کو مخلصانہ حج نصيب ہو جائے جس کو دين و شريعت کي زبان ميں ''حج مبرور‘‘ کہتے ہيں تو گويا اس شخص کو سعادت کا اعليٰ مقام حاصل ہو گيا۔ليکن جو شخص حج کرنے کي استطاعت رکهنے کے باوجود فرض حج نہ کرے، اس کے ليے آغاز ميں مذکور ارشاد نبويؐ ميں بڑي سخت وعيد آئي ہے۔ حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو مشرکين کے بجائے يہود و نصاريٰ سے تشبيہ دينے کا راز يہ ہے کہ حج نہ کرنا يہود و نصاريٰ کي خصوصيت تهي البتہ مشرکينِ عرب حج کيا کرتے تهے ليکن وہ نماز نہيں پڑهتے تهے جس کے باعث ترک نماز کو مشرکين کا عمل بتايا گيا۔ باقي رہا يہ سوال کہ حج کس پر فرض ہوتا ہے تو اس بار ے ميں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کي يہ روايت خاصي رہنمائي فراہم کرتي ہے کہ'' ايک شخص رسول اللہ ؐ کي خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض کيا: ''يا رسول اللہؐ کيا چيز حج کو واجب کر ديتي ہے؟ آپ ؐ نے فرمايا:سامان سفر اور سواري۔ ‘‘ (جامع ترمذي، سنن ابن ماجہ) قرآنِ مجيد ميں فرضيت حج کي شرط يہ بتائي گئي ہے کہ حج ان لوگوں پر فرض ہے جو سفر کر کے مکہ معظمہ تک پہنچنے کي استطاعت رکهتے ہوں۔ اس آيت ميں جو اجمال ہے غالباً سوال کرنے والے صحابيؓ نے اس کي وضاحت چاہي تو آپ ؐ نے يہ ہدايت فرمائي :''ايک تو سواري کا انتظام جس پر مکہ معظمہ تک سفر کي جا سکے اور اس کے علاوہ کهانے پينے جيسي ضروريات کے ليے اتنا سرمايہ ہو جو اس زمانہ سفر کو گزارنے کے ليے کافي ہو۔‘‘ فقہائے کرام نے ان اخراجات ميں ان لوگوں کے اخراجات کو بهي شامل کيا ہے جن کي کفالت حج پر جانے والے کے ذمہ ہو . حضرت ابوہريرہ ؓ سے روايت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمايا :''حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعاليٰ کے مہمان ہيں۔ اگر وہ اللہ سے دعا کريں تو وہ ان کي دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگيں تو وہ ان کي مغفرت فرمائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روايت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمايا:'' جب کسي حج کرنے والے سے تمہاري ملاقات ہو تو اس کواس کے گهر ميں پہنچنے سے پہلے سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کي دعا کے ليے کہو کيوں کہ وہ اس حال ميں ہے کہ اس کے گناہوں کي مغفرت کا فيصلہ ہو چکا ہے۔‘‘ (مسنداحمد) اللہ تعاليٰ ہم سب کو اخلاص کے ساته بار بار حج اور عمرہ کي سعادت فرمائے اور حج مبرور نصيب فرمائے، آمين


انقر هنا لقراءة الخبر من مصدره.